اٹک[1]

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - رکاوٹ، مزاحمت، اٹکاوا۔  گر کام تیرا وہم کے بھٹکاو پر نہیں تیرے لیے اٹک کسی اٹکاو پر نہیں      ( ١٨٤٩ء، کلیات ظفر، ٧٧:٢ ) ٢ - تامل، جھجھک  تری مڑک نے پنپنے دیا نہ تجھ کو حیف تری اٹک سے تری ناو جا پڑی منجدھار      ( ١٩١١ء، کلیات اسماعیل، ١٧٨ ) ٣ - تعلق، وابستگی، الجھاوا۔  اٹک دل کی ہے ہے بری ہے بری جگر پر ہے گویا کہ زہری چھری      ( ١٧٣٩ء، کلیات سراج، ٧٩ )

اشتقاق

'اٹکنا' مصدر سے حاصل مصدر ہے۔ اردو میں ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث